ہر کوئی اب تلک تھا ستم گار کی طرح
آیا ہے اب یہاں کوئی غمخوار کی طرح
سب رشتے ناطے بھول کے جانے ہوا ہے کیا
ملتے ہیں ہم سے وہ کسی اغیار کی طرح
لفظوں کے گھاؤ دیکھ تو سکتے نہیں مگر
ہوتی ہے کاٹ ان کی بھی تلوار کی طرح
وہ بھی ملے ہیں اجنبی بن کر ہمیں تو آج
اب تک جنہیں سمجھتے تھے دلدار کی طرح
سنتے ہیں آج راہوں سے گزریں گے وہ صنم
بیٹھے ہیں آکے ہم بھی طلبگار کی طرح
بازار میں جو آئے کبھی شے کوئی نئی
اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
آئے مزاج پرسی کو ہیں وہ صبیحہ تو
صورت بنالیں ہم کسی بیمار کی طرح
صبیحہ خان صبیحہ

0 تبصرے