کسی صورت بدل نہیں سکتیدل کی فطرت بدل نہیں سکتی
دیکھنا تجھ کو ہے مری عادت
اور یہ عادت بدل نہیں سکتی
آدمی تو بدلتا رہتا ہے
آ دمیت بدل نہیں سکتی
کون کہتا ہے اس محبت میں
کبھی نفرت بدل نہیں سکتی
اس طرح تھا کبھی یقیں اس پر
جیسے آیات بدل نہیں سکتی
ہم تو وہ قوم ہو گئے شازی
جس کی حالت بدل نہیں سکتی
شازیہ عالم شازی
.jpg)
0 تبصرے