ريحانه قمر

 

Life is beautiful 

تیری فقیر محبت کے سنگ ہو گئی ہوں 
میں اپنی ذات کے اندر ملنگ ہو گئی ہوں 

وہ اپنی ڈور سے انچا اڑا رہا ہے مجھے 
میں اس کے ہاتھ میں آ کر پتنگ ہو گئی ہوں 

یہ بات دھیان میں رکھئیے گا بات کرتے ہوئے 
میں اپنے سائیں کی ہو کے دبنگ ہو گئی ہوں 

نظام ادین کی بستی میں یہ کمال ہوا 
میں رنگ کھیل رہی تھی کہ رنگ ہو گئی ہوں 

بھلا ہوا کے مسائل کو پھینک پھانک  کے میں 
دھمال ڈالنے والوں کے سنگ ہو گئی ہوں

 ريحانه قمر


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے