رات ہے اور آ سمان ہو تم
رات کی طرح مہربان ہو تم
اک الاؤ ہوں میں کنارے پر
ایک دریا کی داستان ہو تم
روشنی ہے تمہارے سائے کی
میرا برگد ہو میرا گیان ہو تم
کہکشاں ہے کوئی پرندوں کی
اور پرندوں کے درمیان ہو تم
کھلتی جاتی ہو بادلوں کی طرح
میری بانہوں میں بادبان ہو تم
میں چراغوں سے بھر رہا ہوں تمہیں
رات کا خالی آ سمان ہو تم
روز مہمان بن کے آ تی ہو
آ ج کی رات میزبان ہو تم
سو رہا ہوں تمہارے بستر پر
میرے خوابوں کی نگہبان ہو تم
سانس لیتے ہوئے دیئے کی طرح
رات اور میرے درمیان ہو تم
سات رنگوں کی دھوپ پڑتی ہے
سات رنگوں کا سائبان ہو تم
یہ سفر ختم ہونے والا نہیں
میں پرندہ ہوں آ سمان ہو تم
اس جگہ واپسی نہیں ہوتی
پہلی اور آخری اڑان ہو تم
اچھا لگتا ہے سب تمہیں قیصر
خوش نظر اور خوش گمان ہو تم
نذیر قیصر

0 تبصرے