صبیحہ خان صبیحہ

 دل کا جلنا چھپائے جاتے ہیں

داغ ہیں بس مٹائے جاتے ہیں


زخم ہو گر تو پھر دہائی بھی دیں

ایسی کچھ چوٹ کھائے جاتے ہیں


جن کی تعبیر دے نہیں سکتے

خواب ایسے دکھائے جاتے ہیں


وہ جنہیں ہم نے ٹوٹ کر چاہا

رسم سی وہ نبھائے جاتے ہیں


کون دل کی زباں سمجھتا ہے 

داستاں کیوں سنائے جاتے ہیں


اک طرح کے ہیں جب سبھی چہرے

آئینے کیوں دکھاۓ جاتے ہیں


آنسوؤں سے صبیحہ ہم اپنے

گھر کے شعلے بجھائے جاتے ہیں


صبیحہ خان صبیحہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے