رمل اقبال
محبت کیا کہوں تم کو
عجب سی تم عنایت ہو
کہیں ٹکڑے کرو دل تو
کہیں دل جوڑ دیتی ہو
جو تم کو دل میں رکھتا ہے
اس ہی کو توڑ دیتی ہو
نہ جانے رُوپ تم اتنے
کہاں سے لے کے آتی ہو
ذرا سا اُف بھی جو کرلے
وہی دل چھوڑ جاتی ہو
محبت
تیری سوغاتیں زمانیں سے نرالی ہیں
کبھی پل بھر میں سب دے دو
کبھی سب چھین جاتی ہو
تم ہی قربت کی مالک ہو
ہجر بھی خود ہی لاتی ہو
محبت
یہ بتاؤ نا کیوں ہم پہ قہر ڈھاتی ہو؟
تمہیں جو دل میں رکھتا ہے
اسے کیوں چھوڑ جاتی ہو
وفا بھی تم سے ہے رائج
تم ہی خود بیوفائی ہو
محبت
اک اشارے پہ سبھی کو تم گھماتی ہو
کیوں ہم پہ قہر ڈھاتی ہو
کبھی اپنا بناتی ہو
کبھی سولی چڑھاتی ہو
محبت
تم بتاؤ نا
کہاں سے رنگ یہ لاتی ہو
جو تم کو دل میں رکھتا ہے
اسے کیوں چھوڑ جاتی ہو؟؟؟
0 تبصرے