خالی گھر کوئی گھر ہوتا ہے
اندر کا بھی ڈر ہوتا پے
حیرت میرے اڑنے پر ہے
پنچھی کا تو پر ہوتا ہے
وقت سے پہلے جھک جاتے ہیں
جن کاندھوں پہ سر ہوتا ہے
رشک اتا ہے ان لوگوں پر
جن کا دامن تر ہوتا ہے
سر سے کام اگر لے کوئی
ہر دیواد میں در ہوتا ہے
رات کہ انکھوں میں کٹتی ہے
دن ہے کہ سو کے بسر ہوتا ہے
مٹی سونا کر دیتے ہیں
جن کے پاس ہنر ہوتا ہے
سعد اسان نہیں ہے اتنا
مر جاو جو مد ہوتا ہے
0 تبصرے