غزل
ایک بُجھتا چراغ ، خالی دل
زندگی کا سراغ ، خالی دل
ایک منظر ہمیں دکھاتا ہے
دامنِ شب کا داغ، خالی دل
رات بھر غم کشید کرتے ہیں
تیرے انگورِ باغ ، خالی دل
جن کی مونچھیں ہیں اُن کے قد سے بڑی
اُن کے خالی دماغ ، خالی دل
کارِ دنیا سے اُلجھے جاتے ہیں
فرقتِ دم ، فراغ ، خالی دل
اپنی کُل کائنات ہیں سیما
ساغرِ گل ایاغ، خالی دل
عشرت معین سیما

0 تبصرے