نگار بانو ناز

زندگی کیسے کہوں تجھ سے گریزاں ھوں میں۔

عالم زیست میں تنہا ہی پریشان ہوں میں۔

وقت نے چھینا ھے چہرے کا میرے نقش و نگار۔

 ضعف طاری ہے ضعیفی سے پریشان ھوں میں۔

اس کے لہجے میں جو بدلے ھوۓ تیور دیکھیں۔

بے وفا ھو گیا کیسے بڑی حیران ھوں میں۔

لوگ کرتے ہیں برائ میرے پیچھے اکثر۔

ظلم سہتی ھوں رقیبون سے پریشان ھوں میں۔

اجنبی شہر ھے انجان ھے ہر ایک چہرہ۔

کاکل وقت میں الجھا ھوا طوفان ھوں میں۔

کوئی ہمدرد نہیں کوئی بھی غمخوار نہیں

گردش وقت کا مارا ھوا عنوان ھوں میں۔

میری تنہائی ہی اب میرا مقدر ھے ناز۔

 دشت میں درد کے مانند بیابان ھوں میں

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے