عذرا علیم

 

افسانچہ لکھنے کا فن اور اس کے لوازمات کے بارے میں کئ سالوں سے کافی بحث جاری ہے۔سعادت حسن منٹو اردو ادب میں صنف  افسانچہ کے موجد قرار دے گئے ہیں، جبکہ جوگیندر پال جی نے مختصر افسانوں کی اس  صنف کو افسانچہ کا نام دیا اور اس کی مزید ترویج کی۔ آج سات دہائیوں کے بعد بھی ادبی حلقوں میں  افسانچہ کو حتمی شکل دینے  پر محنت کی جاری ہے۔

 داستان گوئی سے لیکر ناول ،ناولٹ ،افسانہ،ڈرامہ اور افسانچہ تک ان سب میں ایک بات مشترک ہے اور وہ ہے کہانی پن اور کہانیاں سننے سنانے کا رواج  انسانی معاشرت میں ہمیشہ سے ہی  رہا ہے ۔زمانے کے تغیرات کے ساتھ بدلتے وقت میں جہاں  ہر چیز سکڑ کر چھوٹی ہو گئی، وہاں داستان گوئی کے مزاج اور رنگ و روپ میں  بھی فرق رونما ہوا۔افسانچہ نگار وں کے مطابق افسانچہ کی مختصر تحریر اپنے اندر ایک یا ایک سے زیادہ کہانیاں اور بین السطور پیغام  سمیٹے  ہوئے ہوتی ہے اور قارئین کے لیے شروع سے آخر تک تجسس بھی برقرار رکھا جاتا ہے۔

    موجودہ مشینی  دور میں جہاں وقت پر لگا کر تیزی سے اڑ رہا ہے، ہر کام اور ہر چیز کا حجم اور وزن گھٹ رہا ہے۔  کچھ تو مہنگائی کی وجہ سے بھی اور کچھ وقت کی بچت کے پیش نظر  روائیتی تہذیب و تمدن  میں بھی  کچھ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ 

    اردو زبان ترتیب کے لحاظ سے  دنیا  میں چھٹے نمبر پر  بولی،لکھی  اور سمجھی جاتی ہے، اسی لیے  اردو  کے فروغ کے لیے دریا کو کوزے میں بند کرنے کے ہنر کے ساتھ  صنف  افسانچہ کی ترویج تیزی سے ہو رہی ہے تاکہ کم سے کم وقت اور الفاظ کے ساتھ قلمکار اپنا  پیغام لوگوں تک پہنچا سکے اور علمی و ادبی لحاظ سے  لوگ اس سے فیض یاب ہوں ۔ اس طرز عمل کی ضرورت یوں بھی  شدت سے محسوس کی گئی کہ   ارتقائی دورمیں اردو زبان  کی اہمیت دھیرے دھیرے کم ہوتی جا  رہی ہے  یا یوں کہیے کہ  اسے ختم کیا جارہا ہے۔آج اردو  صرف مدارس  کی وجہ سے  زندہ ہےجہاں اردو کو  ذوق و شوق اور توجہ سے سکھایاجا رہا ہے۔

  افسانچہ نگاری کے حوالے سے اپنی الگ پہچان بنانے والے 

ڈاکٹر فیض قاضی آبادی کشمیر کے ایک علاقے میں پیدا ہوئے ۔ جناب ڈاکٹر فیض قاضی آبادی صاحب دو دہائیوں سے بھی زائد عرصے سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ اپنے  والد سے اچھی اچھی کہانیاں سنتے تھے اور اس طرح بچپن سے ہی انھیں  کہانیاں لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔

آپکے والد کی یہ  خواہش تھی کی آپ  اعلی تعلیم حاصل کریں اور اپنے والدین اور علاقے کا نام خوب  روشن کریں ۔آپ نے اپنے ننھیال میں پرورش پائی اور ابتدائ تعلیم ننھیال یعنی خوجہ باغ بارہمولہ کشمیر سے حاصل کی ۔ اپنے گاؤں کے پہلے پوسٹ گریجویٹ نوجوان ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔"اقبال کا تصور عمل" پر ایم فل مقالہ لکھا اور "اقبال ،انسان اور خدا" کے عنوان پر پی ایچ ڈی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں آپکا  غالب موضوع ہمیشہ علامہ ڈاکٹر محمد  افبال رح  اور ان کا فلسفہ حیات ہی رہا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ "بلا شبہ علامہ اقبال کا فلسفہ انسانی زندگی کے گرد گھومتا ہے مگران کی اس سوچ کو زہن پر منعکس کرنے کا سرچشمہ  صرف قرآن پاک  ہی ہے جو انسان کی رہبری و رہنمائی کے لیے ہمیشہ موجود ہے"  ڈاکٹر فیض قاضی آبادی علامہ اقبال کی فکر اور زندگی کے متعلق ان کے فلسفے سے بہت متاثر ہیں۔ آپ خود بھی ایک علمی اور ادبی شخصیت ہیں۔

 آپکا نام افسانچوں کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ کا ماننا ہے کہ "ادیب انسانیت کا بے لوث خدمت گزار ہوتا ہے" ۔  آپ تحقیق و تنقید میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔اردو کے مؤقر رسایل و مجلوں میں  آپکے تنقیدی و تحقیقی مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر فیض قاضی  آبادی کی  اب تک چھ کتب شائع ہو چکی ہیں،جن میں سب سے پہلی کتاب بعنوان "صحبت صالحین فکر اقبال کی روشنی میں" ٢٠٠٩ء میں شائع ہوئی ۔یہ کتاب انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ لکھی گئی ہے۔اپکی یہ بہترین تخلیق  دنیائے اردو ادب میں اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہے اور اس حوالے سے آپکے کے علم و فن  کو  بہت پذیرائی ملی ہے ۔آپ اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ اچھی یا بری صحبت کا انسان کی زندگی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔  

 ایک  نامور اسکالر نے آپکی اس عمدہ کاوش کو بے حد سراہا اور  انگریزی  زبان میں اس کا ترجمہ کرنے کی بھی صلح دی ۔

   آپکی دوسری کتاب" لفظ لفظ خوشبو"جو بالخصوص علماء دین اور واعظین کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ 

آپکی تیسری کتاب" اردو اور مدارس "کے عنوان سے ہے جس پر اردو زبان کی ترویج و ترقی اور تنزلی کے حوالے سے  بحث کی گئی ہے ۔ آپ کا کہنا ہے کہ " دنیا میں جن  لوگوں کا زریعہ معاش اردو زبان نہیں ہے وہی اس کی ترقی و ترویج کر رہے ہیں"  اور اس سے مراد مکاتب اور بالخصوص مدارس ہیں جہاں اساتذہ کرام بچوں کو اردو لکھنا پڑھنا اور بولنا سکھاتے ہیں۔ روزمرہ کے معاملات میں گزرتے وقت کے ساتھ  اردو کی جگہ انگریزی الفاظ نے لے لی ہے اور دور حاضر میں لوگ اب  انگریزی کی طرف  زیادہ مائل ہو رہے ہیں ۔ آج کل دستخظ،مہریں  ،فون نمبر انگریزی میں لکھنے  کا رواج عام ہو گیا ہے ۔اعلی سطح پر بھی تقاریر اور درخواستیں  انگریزی میں ہی پیش کی جارہی ہیں ۔ان عوامل سے اردو زبان کا مستقبل  انتہائی خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔آپکی چوتھی  تخلیق "بشیر احمد نحوی - قدم بہ قدم منزل بہ منزل" کے عنوان سے شائع ہوئی ہے ۔آپکی مزید  دو کتب تدوین کے مراحل میں ہیں جو جلد ہی منظر عام پر آجائیں گی، ان میں ایک  تحقیقی اور تنقیدی مضامین پر مشتمل "رنگ رقص کریں " ہے۔ اور آپکے سو سے زائد افسانچوں پر مبنی  پہلا  مجموعہ "آدمی مسافر ہے"۔

   ڈاکٹر فیض قاضی  آبادی کا  شمار جموں کشمیر کےبہترین   قلمکاروں میں سے ہے ۔ آپکے افسانچے  سادہ اور سہل زبان اپنے  موضوعاتی تاثر رکھتے ہیں۔

 کئی سالوں سے آپکے افسانچے مقامی اور بین الاقوامی اخبارات اور مجلوں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ آپکے افسانچوں کی خاص بات یہ ہے کہ آپ ہمیشہ اخلاقی پہلو کو مدنظر رکھ کر افسانچہ تخلیق کرتے ہیں اور  بین السطور معاشرے میں ہونے والی بے اعتدالیوں کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ نیزتمام انسانی جذبوں اخلاص،

دوستی،بھائی چارہ،ہمدردی جیسے احساسات کو سمو کر پیش کرتے ہیں۔

آپ نے اردو زبان کی ترقی و ترویج کرتے ہوئے اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا ہے کہ  ادب برائے ادب کے ساتھ ساتھ ادب برائے اخلاق کے طور پر سکھایا جائے۔

   ڈاکٹر فیض قاضی  آبادی نے سوشل میڈیا کے توسط سے بھی اپنے افسانچوں کی ترسیل کی اور آپکو بہت سراہنا ملی۔قارئین کی حوصلہ افزائی نے آپکے قلم کو مزید حوصلہ عطا کیا ہے۔

  " آدمی مسافر ہے "میں افسانچوں کے علاؤہ 20لفظوں پر مشتمل کہانیاں  بھی ہیں، جو اپنے اندر پورے معنی و مفہوم سمیٹے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاؤہ کرونا وائرس سے جہاں کوئی بھی بچ نہ پایا وہاں  دیگر ادباء کی طرح آپ نے  بھی کرونا کے موضوع پر   " یک رنگی" افسانچے ترتیب دیے ہیں جن میں لوگوں کے اس مہلک وبا کے ساتھ تحفظات کو زیر بحث رکھا گیا ہے ۔

ذاتی طور پر مجھے محترم ڈاکٹر فیض قاضی ابادی صاحب کی زیر تدوین افسانچوں ہر مشتمل کتاب "آدمی مسافر  ہے"

میں ایک بات  محسوس ہوئی  کم و بیش ہر افسانچے میں   معاشرے میں رونما ہونے والے صرف منفی بےاعتدالیوں کی نشاندہی کی گئی ہےاور دوسرے خواتین کے حوالے سے جتنے بھی افسانچے پیش کیے گئے ان میں خواتین چاہے ماں ،بیوی،بیٹی،بیوہ،نوکرانی،فقیرن غرض تمام کردار مرد کے ظلم کا شکار بتائے گئے ہیں جس سے  مرد کے کردار کو بھی مجرو ح  کیا گیا ہے۔

میں صرف یہ وضاحت دینا چاہوں گی کہ تمام عورتوں پر دنیا میں ظلم نہیں ہوتا بعض دفعہ مرد بھی عورت کے ظلم کا شکار ہو جاتے ہیں۔

 آج کےدور میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں۔ جو ایک خوش آئین بات ہے کہ اپنی گھریلو زمہ داریوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے  محنت اور لیاقت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے۔     

   "آدمی مسافر ہے "

میں  انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اخلاقی اقدار  کو موضوع بحث رکھا گیا ہے جن میں  نظر کی تاثیر، ماں ،درندوں کی بستی،موبائل نمبر،ہیر ڈریسر ،کرارے نوٹ،جاب،اتحاد، وہ،دو پاپ ،ضرورت ،لاوارث ،احترام صیام،مسجد کا ظاہر اور خلافت قابل ذکر  افسانچے  ہیں جو قاری کے زہن پر اپنی ایک الگ  چھاپ چھوڑ جاتے ہیں۔ افسانچہ "درندہ " میں  انسانیت اور درندگی  کے فرق کو انتہائی باریک بینی  سے  مشاہدے کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جس میں بین السطور انسان کے  ظاہری اور باطنی کردار کو اجاگر کیا گیا ہے کہ 

ایک مصور جب اپنے برش سے رنگوں کے ساتھ  کئی بار ایک  انسان  کی تصویر بنانے کی کو شش کرتا ہے اور ہمیشہ ہی  کینوس پر ایک درندہ ابھر کر سامنے آتا ہے اور جب وہ محض ایک  درندہ  کی تصویر بناتا ہے تو  اس میں انسان کی شکل ابھر کر سامنے آتی ہے۔اسی طرح انسانی فکر کو ایک فطری انداز میں پیش کرتے ہوئے  افسانچہ " احساس" ہے  جس میں ایک پیشہ ور قاتل کسی معصوم  شہری کو گولی مارتا ہے جس سے ارد گرد  کے  لوگ خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور اسے فوراً یہ احساس ہوتا ہے کہ اسے قتل کے لیے  چاقو کا استعمال کرنا چاہیے تھا تاکہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی اور کام تمام ہو جاتا گولی کی آواز نے بے گناہ لوگوں کو خوفزدہ کر دیا۔

اس افسانچے میں انسان کی منفی سوچ کے پہلوؤں کو ایک الگ انداز میں  پیش کیا گیا ہے ۔اسی افسانچے کو "کہانی بنی کہانی" میں دوبارہ پیش کیا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قلمکار نےاپنی تخلیق  کی  نہ صرف خود سراہنا کی  ہے بلکہ  منٹو صاحب بھی خواب میں اس افسانچے پر شاباشی دے رہے ہیں ۔۔ 

بلاشبہ افسانچہ "احساس"تعریف کے لائق ہے۔افسانچہ "امید کا خون " میں قلم کار نے ایک باپ کی بے بسی کو بیان کیا ہے کہ اس کے دیگر  اہل خانہ کی بھوک اس  وقت مٹی جب اس کا جوان بیٹا لقمہ اجل بن چکا ہوتا ہے ۔اس طرح کے درد ناک واقعات شب وروز ہمارے اردگرد رونما ہوتے ہیں۔جیسے جیسے دنیا نت نئی ایجادات کے ساتھ  ترقی کی منازل طے کرتے آگے بڑھ رہی ہے وہیں مفلسی و  غریبی سے بے بس و لاچار انسان فقر و فاقے کا شکار  ہو کر گھٹ گھٹ کر جی رہے ہیں۔رمضان اللہ کے حضور دعا مانگتا ہے کہ 

 "یا اللہ کوئی ایسی تدبیر کر کہ میرے افراد خانہ کی بھوک دور ہو سکے"۔

یعنی وہ اہل خانہ کو فقرو فاقہ میں دیکھ کرانتہائی پریشان تھا اور ان کی بھوک مٹانے کے لیے رب سے التجا کر رہا تھا۔اب دوسرے پہلو پر غور کرتے ہیں کہ مصدق کرفیو میں کچھ دیر کی  نرمی کے سبب سبزی فروخت کرنے نکلتا ہے اور راستے میں دھماکہ ہونے کے وجہ اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔محلہ کمیٹی کفن دفن کے ساتھ تین دن کے طعام  کا انتظام کرتے ہیں جیسا کہ عموما ایسے موقعوں پر ہوتا ہے ۔یہ اخلاقی روایت صدیوں سے قائم ہے  کہ میت کے گھر میں تین دن تک لوگ سوگ مناتے ہیں اور گھر کا چولھا نہیں جلایا جاتا۔

 بے بسی کی زندگی اور ہر پل مر مر کے جیتے نجانے کتنے لوگ دردناک موت کے ساتھ خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور نجانے کتنے اچھے دنوں کے خواب آنکھوں میں سجائے گزرتے وقت سے رحم کی بھیک مانگ رہے ہیں ۔ 

         خواجہ میر درد کا یہ شعر اس افسانچہ کی ترجمانی کرتا ہے کہ:

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے  

   " گڈا" افسانچہ معاشرے میں پھیلی دہشت گردی کے سبب جاں بحق ہونے والے لوگوں کی آپ بیتی ہے۔

روز کوئی نہ کوئی خاندان  دہشت گردی کے سبب برباد ہو رہے ہیں۔

رفیقہ اپنے بیمار  بیٹے کو گود میں اٹھائے ہسپتال جا رہی تھی اور فائرنگ کی زد میں آکر کئی راہگیر موت کی نیند سلا دیے گئے اور رفیقہ کا معصوم چار ماہ کا بیٹا بھی جاں بحق ہو گیا۔اس کی  دو سالہ ننھی بیٹی بھائی کو "گڈا"کہہ کر بلاتی تھی اور اپنے بھائی کے لیے رونے لگی تو بازار سے کھلونا خرید کر اسے دے دیا گیا۔کچھ دیر تو وہ خوش ہوئی مگر پھر اسے احساس ہوا کہ یہ بے حس و  حرکت اس کا گڈا (بھائی)نہیں ہےاور وہ پھر سے رونے لگتی ہےاور گھر کے دیگر افراد بھی رو  پڑتے ہیں۔ اس افسانچہ میں قلمکار نے خوبصورتی کے ساتھ دنیا میں بڑھتی دہشتگردی کی تباہ کاریوں کے خوفناک نتائج کی ایک ہلکی جھلک پیش کی گئی ہے۔افسانچہ "تبدیلی" کے ذریعے بہترین پیغام دیا گیا ہے۔کسی علاقے کے چودھری اسلم اپنے بیٹے جنید کو موبائیل پر مشغول دیکھ کراسے متنبہ کرتے ہیں کہ اگر وہ امتحان میں امتیازی نمبر نہ لایا تو  اسے مولوی اکرام الدین کے دینی مدرسہ میں داخل کروا دیا جائے  گا۔چودھری اسلم   نے محض بیٹے کو پڑھائی پر دھیان دینے کی غرض سے اس پر یہ زہنی دباؤ ڈالا تھا ۔

جنید اپنے امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیاب تو ہو گیا تھا لیکن  والد کی توقعات کے  عین مطابق امتیازی  خط سے ذرا پیچھے رہ گیا تھا اور چودھری اسلم اپنے بیٹے  جنید سے مایوس ہو گئے ۔  غصہ میں  اسے مولوی اکرام الدین کے دینی مدرسہ میں داخل کروادیا گیا۔

ایک عرصہ بعد جنید  اس مدرسے سے فارغ ہو کر  حضرت مولانا مفتی جنید احمد بن چکا تھا۔عجیب بات ہے کہ وہ جنید جو کسی زمانے میں والد کے ٹوکنے کے باوجود  اپنے موبائیل پر  مشغول رہتا تھا اب مرکزی جامع مسجد باغ ارم جنت ‌نگر  میں موبائل  کی تباہ کاریوں کے  موضوع پرخصوصی خطاب کر رہا تھا ۔قلمکار کے مطابق اسلم اسے درحقیقت  مولوی بنانا نہیں چاہتا تھا  محض جنید  کو  سزا کے طور پر دینی مدرسے میں داخل کروا دیا گیا  تھا ۔ کیونکہ عموما دینی مدارس میں مفت کھانا پینا اور رہنے کا انتظام رکھا جاتا ہے ۔ چودھری  اسلم  نے وہاں کی انتظامیہ کو  یقیناً یہ بھی بتایا  ہوگا کہ  جنید سارا دن موبائیل پر مشغول رہتا ہے۔ پڑھائی پر توجہ نہیں دیتا اس کی اصلاحی تربیت کی انتہائی شدید ضرورت ہے۔

اسی لیے دینی مدرسے میں اتنے سالوں تک  اس کے ذہن کو  صرف  موبائیل  کی تباہی کاریوں پر تربیتی لیکچر تیار کروائے گئے ہونگے۔ جنید کے وقت میں میڈیا نے اتنی ترقی نہیں کی ہوگی۔ویسے  کسی بھی مسلمان بچے کا دینی مبلغ بننا اپنے آپ میں ایک بڑی سعادت ہے۔اگر وہ صحیح مدرس اور علماء دین کے زیر سایہ تربیت پائے۔

 اور مزید یہ کہ دنیا کے بہترین اسلامی مدارس میں  نہ صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ اسکے ساتھ دیگر علوم اور بالخصوص سائنس بھی  پڑھائی جاتی ہے ،کیونکہ انسان کا وجود بھی رب ذوالجلال کی تخلیقی  عمل سے زیر وجود میں آیا ہے ۔اور اس کا علم  انسان نے سائنسی تحقیق اور تجربات کی روشنی میں کیا۔

اسلام سائنس کو انسان کی بقا کے لیے ایک لازمی شرط سمجھتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق "علم حاصل کرو چاہیے اس کے لیے چین کیوں نہ جانا پڑے " یعنی انسان جب تک اپنی  زندگی میں تحقیقی،تجرباتی اور مشاہداتی طرز عمل سے نہیں  گزر ے گا وہ  کائنات کی تسخیر نہیں کر پائے گا۔ کائنات کے تمام  سیاروں اور ستاروں کی گردش باقاعدہ ایک نظام فلکی کے تحت خالق کل کے اذن سے  جاری و ساری ہے۔ فیض قاضی آبادی نے اس افسانچے میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ والدین اپنی مرضی جبرا بچوں پر ٹھونسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انکی معمولی غلطیوں کی سزا اپنے انداز میں دینے کے فیصلے جلدبازی میں کرتے ہیں۔ بچوں  کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرنے کو ترجیح نہیں دیتے۔انکی مرضی جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ وہ خود زندگی میں کیا بننا چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ والدین اپنی ضد پر اڑے رہتے ہیں اور اولاد  کی زندگی کے اہم فیصلے خود لیتے ہیں۔حتی کہ ان کی شادیاں بھی اپنی مرضی سے طے کر دیتے ہیں۔ یہ ہمارا معاشرتی المیہ ہے۔ دور جدید کے والدین کے لیے قلمکار کا یہ افسانچہ بہترین پیغام دیتا ہے۔

    میں صمیم قلب سے محترم ڈاکٹر فیض قاضی صاحب کی افسانچوں پر مبنی پہلی کتاب پر دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں اور دعا کرتی ہوں کہ آپکے قلم کو اللہ سبحان تعالی اور جلا بخشے اور  اردو کی ترویج و ترقی کے اس سفر میں آپ اسی طرح علمی  و ادبی مشعل سے روشنی پھیلاتے رہیں ۔

شکریہ

 ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ 

 عذرا علیم 

نائب مدیرہ "افسانہ نما"

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے