اختر چیمہ



 غزل

خار کو پھول نہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

کلمہء حق سر دربار سدا کہتے ہیں

دیکھتے دیکھتے بن جاتے ہیں عبرت کی مثال

بیٹھ کر تخت پہ خود کو جو خدا کہتے ہیں

کم نظر لوگوں کا معیار فراست کیا ہے

ہر ریاکار کو جو اہل وفا کہتے ہیں

آشنا سیرت و کردار کی عظمت سے نہیں

جو نقابوں کو ہی معیار حیا کہتے ہیں

جھانک کر دیکھیں کبھی اپنے گریبانوں میں

ہم سے درویشوں کو جو لوگ برا کہتے ہیں

ایک چہرے پہ کئی چہرے نظر آتے ہیں

فیس بک جھوٹ کی دنیا ہے بجا کہتے ہیں

گو کہ رسوائے زمانہ ہیں کئی لوگ مگر

جتنے کم ظرف ہیں ہم کو ہی برا کہتے ہیں

ٹال دیتی ہے بلاؤں کو جو سر سے اختر

اس کرامت کو فقط ماں کی دعا کہتے ہیں


اختر چیمہ- سیالکوٹ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے