آج کی غزل
منافقت میں عظیم دھرتی کے پیر و مرشد بدل رہے ہیں
لہو میں پتھر مثال جذبے بھی لمحہ لمحہ پگل رہے ہیں
بھلاﺅں کیسے تمہاری آنکھیں گلاب چہرے کی تیری رنگت
تمہارے وعدے تو گل کی سنگت میں جیسے سائے کے چل رہے ہیں
میں چاہتاہوں کے ملنے آﺅں ، چلی تم آﺅ جہاں ملے تھے
گلوں کی سنگت میں تھے جو لمحے وہ دل میں پھر سے مچل رہے ہیں
لہو سی رنگت کے اشک آنکھوں میں تیرنے کا سبب بتاﺅں
تری رفاقت میں جو ملے تھے وہ زخم سینے میں پل رہے ہیں
لگا کے کاجل لبوں پہ لالی کھڑی ہو گالوں پہ رکھ کے اُنگلی
نظر ملاﺅں تو تم سے کیسے لہو میں جذبے اُبل رہے ہیں
٭٭٭
گل بخشالوی
کھاریاں شہر ( پاکستان)
+92 302 589 2786
0 تبصرے