ڈاکٹرفرزانہ فرحت

نہ روشنی سحر کی تھی نہ رات کی تھی چاندنی

کچھ اس طرح کٹی ہے میری خواب خواب زندگی


مرے چراغ اس طرح سے رات بھر بجھے رہے

نہ شمع ہی جلی مری نہ تھی دیے میں روشنی



بجھا بجھا سا دل رہا مری یہ آنکھ نم رہی

بتاؤں کیا کہ کس طرح مٹی مٹی رہی خوشی



شبِ فراق چل رہی تھی میرے ساتھ ساتھ ہی

تری تلاش میں رہی سفر کی خاک چھانتی



مرے وجود سےخزاں لپٹ گئی تھی اس طرح

نہ رنگ تھا بہار میں نہ پھول میں تھی تازگی



نہ فرحتیں۔ تھیں شام کی نہ راحتیں تھی رات کی

کہ میرے چارسو رہی تھی رات کیسی خامشی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے