افسانہ :
طلائی زیورات
پورا گھر مہمانوں سے بھرا تھا کچھ لوگ شادی ہال میں جانے کی بجائے دولہا کے گھر پر ہی آگئے تھے تاکہ اکٹھے بس میں سوار ہو کر وہاں سے ہال تک جائیں ۔
کوٹھی کی بالائی منزل پر نئ نویلی دلہن رمشہ ستاروں بھرا جھلملاتا خوبصورت لباس پہنے اپنے ولیمہ کے لیے تیار ہو رہی تھی اس کی ساس ایک مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں اور نیلے رنگ کا زیورات کا بکس اسکے قریب ٹیبل پر رکھ کر مہمانوں کی تواضع اور دیکھ بھال کا کہہ کر نچلی منزل پر چلی گئیں۔۔ ۔کچھ ہی دیر بعد دولہا جواد خان انتظامی کاموں کی بھاگ دوڑ کرتے ہوئے دلہن کے کمرے کی طرف آتے ہوئے ماں کے کمرے کی الماری کی دراز سے کچھ لینے گیا ماں کا کمرہ اس کے کمرے کے سامنے ہی تھا وہیں اس کی نظر الماری میں کپڑوں کے بیچ میں سے جھانکتے زیور کے لال بکس پر پڑی اس نے سوچا شاید ماں دلہن کو زیور دینا بھول گئیں تو وہ بکس اٹھا کر ساتھ لے آیا۔رمشہ بس تقریبا تیار ہو چکی تھی اتنے میں جواد نے اسے زیور کا بکس تھمایا اور خود دوستوں کے آواز دینے پرتیار ہو کر ان سے بات کرنے نیچے چلا گیا۔
رمشہ ایک اورزیور جا ڈبہ دیکھ کر بہت خوش ہوئی اس نے دونوں بکس کھول کر دیکھے کہ کون سا زیور پہنوں وہ حیران رہ گئی کہ دونوں میں ایک جیسے سیٹ رکھے تھے تھوڑی دیر تو وہ کچھ سمجھ نہ پائی کہ یہ سب کیا ماجرا ہے پھر دھیرے دھیرے اسے یاد آیا کے زیورات کی خریداری کے وقت وہ ساس کے ساتھ جیولر کے شوروم میں گئی تھی تو وہاں پر اس کی پسند کا یہ سیٹ لال رنگ کے بکس میں پیک کر کے دیا گیا تھا۔
اس کا ہوشیار زہن جلد ہی نتیجہ پر پہنچ گیا کہ ساس نے اسے اصلی کی جگہ نقلی سیٹ ہی دیا ہے ۔۔۔
اس نے نیلے بکس کے سیٹ کو لال بکس کے سیٹ میں سجا دیا اور خود لال بکس کا اصلی سیٹ پہن کر تیار ہو گئی من ہی من میں اپنی فتح پر خوش بھی ہو رہی تھی پھر اس نے جواد کو فون کر کے بلایا اور کہا کہ ڈبہ وہیں رکھ دیں جہاں سے لائے تھے ۔جواد اپنی خوبصورت سجی بنی دلہن کو نہار رہا تھا رمشہ نے ٹوکا جلدی سے بکس رکھ کر آئیں ۔۔کیعنکہ مہمان انتظار کر رہے ہیں پھر شادی ہال پہنچنے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔جواد نے حکم کی تعمیل کی ۔۔۔
کریم النساء بی بی پرانی ملازمہ تھیں جواد میاں کی شادی کا زیور ان کو بھی دکھایا گیا تھا ان کی بیٹی بھی شادی کے لائق تھی انھوں نے مالکوں سے بیٹی کی شادی کے لیے کچھ پیسے مانگے تھے جواد کی ماں نے سنگیت پر جمع ہوئے نیک سے بھری تھیلی ان کو تھماتے ہوئے کہا تھا ابھی تو اس سے کام چلاؤ ویسے بھی تم لوگوں کی شادیوں میں کوئی خاص خرچہ تو نہیں ہوتا اب پانچ ہزار کافی ہونگے تمھاری بیٹی کی شادی کے لیے۔کریم النساء بی بی نے جھجھکتے ہوئے تھیلی دوپٹے کے پلو سے باندھی اور گھر کے کاموں میں لگ گئیں۔
جس وقت جواد کی ماں نے اصلی اور نقلی زیور کی ادلا بدلی کی تھی ۔۔۔اس وقت صفائی کرتے کرتے کریم النساء نے دروازے کی آڑ سے سب دیکھ لیا تھا اس نے چپکے سے اپنے بڑے بیٹے دلاور کو فون کیا کہ بیگم صاحبہ کی الماری میں لال بکس میں طلائی زیور رکھا ہے رات کو کوٹھی کا پچھلا دروازہ وہ کھلا چھوڑ دیے گی۔
دلاور نے باغیچہ میں چھپ کر تمام لوگوں کے ہال میں روانگی کا انتظار کیا پھر دبے قدموں سے ماں کی بتائی ہوئی الماری سےلال بکس میں سے سیٹ نکال کر جیب میں ڈالا اور رفوچکر ہو گیا ۔
شادی کے ہنگاموں سے فرصت ملی تو جواد کی ماں نے الماری کھولی ڈبہ کو دیکھ کر مسکرائیں کہ کتنی چالاکی سے دلہن کو نقلی زیور بری میں چڑھا دیا ابھی انھوں نے ڈبہ کھولا ہی تھا کہ ان کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔۔۔ خاکی ڈبہ انھیں منہ چڑا رہا تھا ۔۔۔ وہ چکرا کر دھڑام سے زمین پر گر پڑیں۔۔۔ جب ہوش آیا تو کسی کو کچھ بھی نہ کہہ پائیں کہتیں بھی تو کیا کہ لاکھوں کا زیور چوری ہو گیا جبکہ وہ زیور تو دلہن کو خود ہی پہنچا کر آئیں تھیں جو وہ ابھی بھی پہنےہوئے تھی ۔کریم النساء کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ اب ایسا ہی کچھ ہوگا اسی لیے وہ بناوٹی پریشانی ظاہر کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں سب گھر والوں کو یہ کہا کہ بیگم صاحبہ شاید شادی کے ہنگاموں میں تھکن سے بے حال ہوگئیں ہیں۔رمشہ بھی دوڑی دوڑی ساس کے کمرے میں ان کی خیریت دریافت کرنے جواد کے ساتھ پہنچی وہ دل ہی دل میں قہقہے لگا رہی تھی کہ بچاری ساس نے اصلی سے نقلی زیور بدلا اور اس نے نقلی سے اصلی زیور بدل کر بازی مار لی۔۔۔۔ لیکن ساس کو زور کا جھٹکا زور سے لگا ۔۔۔
اب اصل میں ہوا کیا تھا کہ ۔۔۔شادی کی تیاریوں
میں جواد کی ماں نے اپنے بھائی کلیم الدین کو رازدار بنا کر اصلی جیسا ہو بہو نقلی زیور بنوانے کو کہا اور مکار بھائی نے بہن کی بات پرکچھ اس طرح عمل کیا اس نے ایک نہیں دو نقلی سیٹ بنوائے اور دونوں نقلی سیٹ اپنی پیاری بہن کو لے جا کر تھما دیے ۔
۔
رمشہ اپنے کمرے میں سنگھار میز کے سامنے بیٹھی اپنے آپ سے باتیں کر کے خوش رہی تھی کہ اس نے کیسے اصلی زیور نکالا اور لال بکس میں نقلی زیور رکھ دیا کریم النساء کمرے کے حمام میں دھکے تولیے لٹکا کر کے باہر نکل رہی تھی کہ اس نے رمشہ کی سرگوشیاں اور ہلکے قہقہے سنے اس نے اپنا سر پیٹ لیا کہ اس کی ساری محنت اکارت گئی۔
کام سے فارغ ہو کر وہ گھر پہنچی زیور لیکر دوسرے علاقے کے سنار کے پاس کچھ رقم دے کر چپکے سے زیور چیک کروایا تو اس نے انھیں بتایا کہ زیور نقلی ہے ان پر سونے کا پانی پھرا ہے۔
کریم النساء نے اپنے بیٹے دلاور کو فون کیا کہ زیور تو نقلی ہے
اور غصے میں زیور لے کر خاموشی سے دولہا کے کلیم ماموں کا اسکے کمرے میں جانے کا انتظار کرنے لگی
رمشہ جواد کا انتظار کر رہی تھی اور تیار ہو کر نیچے اتر آئی تھی وہ ابھی گاڑی کی طرف بڑھ ہی رہی تھی کہ ماما کے کمرے کی کھڑکی پر نظر پڑی جہاں کلیم الدین ماموں طلائی زیورات کو چومتے ہوئے ایک پوٹلی میں باندھ کر رکھ رہے تھے
رمشہ کو کچھ شک ہوا وہ ان کے کمرے سے باہر جانے کے بعد دبے قدموں ان کے کمرے میں گئی انکے سامان کی تلاشی لی تو تھوڑی دیر میں ہی زیورات کی پوٹلی برآمد ہوگئی۔۔۔ اور دیکھ کر حیران رہ گئی کہ ہو بہو وہی سیٹ ہے ۔۔۔جو اس نے پسند کیا تھا اور جس کا نسلی نمونہ اس کی ساس نے اسے چڑھا دیا تھا ۔۔۔۔ اسے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ماما جی نے اپنی سگی بہن کے کمرے سے زیور چرا لیا ہے۔۔۔ ۔۔پھر وہ ہاتھوں میں زیور لیے دل ہی دل میں ہنس رہی تھی کہ یہ تو نقلی زیور ہیں۔۔عین اسی وقت اسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی ۔۔۔رمشہ جلدی سے زیور سمیت پردے کے پیچھے چھپ گئی ۔۔۔ اس نے پردے کی اوٹ سے دیکھا کہ کریم النساء ایک پوٹلی لیکر کمرے میں آئی اور کلیم ماما کے سامان میں چھپا کر جلدی سے وہاں سے نکل گئی ۔۔
وہ حیران ہوئی کہ یہ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہے۔۔۔ کہیں کلیم ماما اور یہ دونوں ملے ہوئے تو نہیں ۔۔۔ ہممم ۔ کریم النساء کے جانے کے بعد اس نے جلدی سے وہ پوٹلی نکالی اور وہ حیرت زدہ رہ گئ۔۔۔ کیونکہ ایک سیٹ اس کے کمرے کی الماری میں تھا ایک اس کے ہاتھ میں اور ایک سیٹ پوٹلی کھلنے پر برآمد ہوا۔۔اب وہ مخمسے میں تھی کہ کونسا سیٹ اصلی ہے ۔۔۔ دونوں سیٹ کا اس نے جلدی سے بغور جائزہ لیا ۔۔۔ ماما جی کے کمرے سے برآمد ہوئے طلائی زیور پر کنداں مہر اسے نظر آگئی اور اسے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ ماما جی تو چور پر مور نکلے وہ اپنی سگی بہن کو ہی چونا لگا گئے۔۔ اس نے نقلی زیورات وہیں چھوڑ دیے اور اصلی زیور لے کر خاموشی سے وہاں سے نکل گئی۔۔۔
اپنے کمرے میں پہنچ کر اس نے اپنی الماری میں رکھا بکس نکال کر پوٹلی میں رکھے اصلی زیورات سے موازنہ کیا تو اسے پتہ چلا کہ اصلی زیورات تو ماما جی نے دبا لیے تھے اور دو نقلی سیٹ بنوا کر اپنی بہن کو تھما چکے تھے۔۔۔ وہ ان کی چالاکی پر یہ کہے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔ ماما جی تو کنز ماما نکلے ۔۔۔
ماما جی شادی سے فارغ ہو کر اپنی خوشی میں مگن خوب نشے میں دھت ہو کر اپنے کمرے میں گئے انھوں نے سامان کا بکس کھولا تو سامنے ہی زیور رکھا نظر آیا یہ وہ سیٹ تھا جو کریم النساء نے ان کے سامان میں رکھا تھا ۔وہ زیورات لیکر نمو بائی کے کوٹھے پر پہنچے اور زیور کو ان کے قدموں میں نچھاور کیا۔۔
کریم النساء بی بی کے چھوٹے بیٹے یاسر کو شادی کے کاموں کے لیے وقتی طور پر ڈرائیور رکھ لیا گیا تھا ۔۔۔وہ مہمانوں۔ کو لانے لیجانے میں دن رات مصروف تھا ۔۔
وہ ماں اور بڑے بھائی کی باتوں سے بے خبر تھا ۔۔۔اس رات یاسر کلیم ماما کو نمو بائی کے کوٹھے پر چھوڑ آیا تھا ۔۔۔ وہ واپس لوٹا تو ماں کو بتایا کہ ماما جی زیور لیکر نمو بائی کے کوٹھے پر گئے تھے۔۔۔۔اور وہ راستے میں بڑبڑا رہے تھے کہ اپنی سگی بہن کو کیسے چونا لگایا اور اصلی زیور اپنے پاس رکھ کر کیسے انھیں دو نقلی سیٹ تھما دیے ۔۔۔
کریم النساء کا ماتھا ٹھنکا کہ اگر ماما جی کے پاس اصلی زیور پہلے سے تھا اور اب اس نے نقلی زیور بھی ان کے سامان میں چھپا دیا تھا ۔۔۔ تو اب کونسا سیٹ وہ نمو بائی کےلیےلے گئے ۔۔۔
اسی الجھن کو سلجھانے وہ کوٹھی میں سب کے سونے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔۔ ماما جی تو نمو بائی سے ملنے گئے ہوئے تھے تو کریم النساء نے جلدی سے جاکر ان کے کمرے کی تلاشی لی مگر اسے وہاں کوئی سیٹ نہ ملا ۔۔۔ وہ تھک ہار کر باہر نکلنے والی ہی تھی کہ اسے رمشہ اور جواد دروازے کے پاس کھڑے نظر آئے ۔۔ رمشہ نے کھڑکی سے کریم النساء کی ویڈیو بنا لیا تھا ۔۔۔ وہ کریم النساء کو لیکر بڑی بیگم کے کمرے میں پہنچے ۔۔۔تھوڑی سی باز پرس کے بعد کریم النساء نے سب کچھ اگل دیا ۔۔۔ وہ رو رو کر اپنی بے گناہی کی دہائیاں دینے لگی ۔۔ بڑی بیگم صاحبہ آنسوؤں سے رونے لگیں اور افسردہ سی ہو کر بین کرنے لگیں کہ ان کے سگے بھائی نے کس طرح انھیں دھوکا دے کر اصلی زیور ہڑپ لیا ۔۔
جواد نے انھیں بجھے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔۔ جب آپ اپنے سگے بیٹے کو دھوکہ دے سکتی ہیں تو وہ بھی آپکے ہی چھوٹے بھائی ہیں۔۔۔
بڑی بیگم صاحبہ نے کچھ کہنے کے لیئے منہ کھولنا چاہا تو رمشہ کی گھورتی ہوئی آنکھوں نے انھیں کچھ بھی کہنے سے روک دیا۔۔۔کیونکہ کہنے سننے کو تو اب کچھ باقی بچا ہی نہ تھا ۔۔۔
جواد نے کریم النساء اور اس کے خاندان کے ساتھ ساتھ ماما جی کو بھی فورا کوٹھی سے نکل جانے کا حکم صادر کیا ۔
اس رات رمشہ اپنا قیمتی طلائی سیٹ پہنے خوشی سے گنگنا رہی تھی
ادھر شہر کے نامور سنار کامل جیولرز کے بیٹے وقاص نے خوبصورت طلائی سیٹ کو سنبھال کر تجوری میں رکھا اور زیر لب مسکرایا ۔۔۔
اس نے ماما جی کو دو نہیں تین نقلی سیٹ بنا کر دیے تھے جس میں سے ایک پر مہر بھی کنداں کر دی تھی۔
افسانہ نویس :
عذرا علیم
مسقط،عمان

1 تبصرے
test comt
جواب دیںحذف کریں