غزل
یہاں کیسی کیسی جفا ہو رہی ہے
محبت تو جیسے فنا ہو رہی ہے
مرا جرم ؛جرم, محبت ہے یارو
فقط اس لئے ہی سزا ہو رہی ہے
نہیں زندگی سے کوئی چیز بڑھ کے
مگر موت کی اب دعا ہو رہی ہے
عجب ہے زمانے کا دستور دیکھا
یہاں مجرموں پہ عطا ہو رہی ہے
نہیں آج کل آپ ملتے جو ہم سے
کہیں ہم سے کوئی خطا ہو رہی ہے
کبھی دادوتحسین ہوتی تھی اپنی
مگر اب تو دنیا خفا ہو رہی ہے
جسے آج تک جان سمجھا تھا میں نے
مری جان مجھ سے جدا ہو رہی ہے
ابھی نہ لگائو نئے زخم دل پر
ابھی درد,دل کی دوا ہو رہی ہے
ٹھہر جائو حق وصداقت پہ آتش
زمانے میں اب تو ضیا ہو رہی ہے
الیاس آتش مریدکے پاکستان ۔

0 تبصرے