ڈاکٹر فرزانہ فرحت ۔۔لندن
حسرتوں کا سلسلہ در سلسلہ رہ جائے گا
بِن ترے اس زندگی میں جانے کیا رہ جائے گا
ساتھ رہ جائیں گے پھِر تنہائیوں کے رات دن
پھر مرے دل میں محبت کا خلا رہ جائے گا
خواب میرے جب کبھی تھک ہار کر سو جائیں گے
چاہتوں کا کوئی سپنا جاگتا رہ جائیگا
نیند تجھ کو بھی نہ آئے گی کبھی میرے بغیر
میری آنکھوں میں بھی کوئی رتجگا رہ جائے گا
میں اگر تیرے لیے یوں اجنبی ہوتی گئی
تو بھی میرے واسطے نا آشنا رہ جائے گا
ہم ملے تھے جس جگہ فرحت~ وہی اک راستہ
حسرتیں میری نظر کی دیکھتا رہ جائے گا

0 تبصرے