گو کسی طرح نہ یہ دل کو گوارا ہوگا
صبر کر لیں گے اگر وہ نہ ہمارا ہوگا
کیسے یکطرفہ محبت کا بھرم رکھیں گے
اس طرح سے تو کبھی بھی نہ گزارا ہوگا
خود کو موج حوادث کے حوالے کرکے
بہتے جائیں گے جدھر وقت کا دھارا ہوگا
سچا ساتھی تمہیں مل جائے دعا ہے اپنی
ہم نہیں ہونگے پر کوئی تو تمہارا ہوگا
غم کا سورج ڈھلا ہے چاند بھی کچھ دھندلا سا
فکر ہے سحر کا اب کیسا نظارہ ہوگا
ظلم جس پر ہے کیا ہاتھ میں اس بے بس کے
حثر کے روز گریبان تمہارا ہوگا
اس کی محفل میں صبیحہ رہے چپ چاپ ہی ہم
سوچتے ہی رہے کب اس کا اشارہ ہوگا
صبیحہ خان صبیحہ

0 تبصرے