غزل
کسی دباؤ کے زیر ِاثر نہیں آئی
میں احتیاط کے پیش ِ نظر نہیں آئی
جو تیرے آنے سے آنے لگی تواتر سے
مری طرف وہ خوشی عمر بھر نہیں آئی
میں ایسی یاد کو گنتی نہیں ہوں یاد کبھی
جو شاخ ِ دل پہ بہ طور ِ ثمر نہیں آئی
سپرد کر کے اسے آ گئی ہوں دل اپنا
پہنچ کے گھر میں بھی لگتا ہے گھر نہیں آئی
ابھی وصال کا موسم ادھر نہیں آیا
ابھی یہ رات بہ رنگ ِ سحر نہیں آئی
میں کربلائی فضا میں پلی بڑھی ماہین
کسی کے آگے جھکا کر میں سر نہیں آئی
ماہین ملک 💕

0 تبصرے